ArticleIDPicAddressSubjectDate
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
 
 
 
 
ViewArticlePage
 
 
  • وجوداورماہیت ”سوفسطائی“ یاوجود علم کے منکر   
  • 2010-02-24 7:32:21  
  • CountVisit : 430  
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • سوال:فلسفہ کی دنیا میںقدیم زمانہ سے آج تک ،ہمیشہ ایسے افراد موجود تھے جو تمام چیزوں کو خیالی اورتصوراتی فرض کرکے کسی بھی حقیقت کے معتقد نہیں تھے ،ان افراد میں سے بعض حتی اپنے شک پر بھی شک کرتے ہوئے مطلق طورپر علم کے وجود کے منکر ہوئے ہیں ۔البتہ اس گروہ کو دنیائے فلسفہ میں” سوفسطائی“ کہتے ہیں ان کے دعوی کو باطل ثابت کرنے کے سلسلہ میں آپ سے ایک مختصر فلسفی اورعلمی جواب کا تقاضا ہے۔

    جواب:ہم ایسے افراد کے مقابلہ میں قرار پائے ہیں جوسو فسطائیت کے گرویدہ ہوکر کہتے ہیں :ہمارے اورہمارے نظریہ کے علاوہ جس چیز کا بھی فرض کیا جائے حقیقت نہیں ہے بلکہ خیال کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اسی طرح کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس سے بالاتر قدم بڑھا کر کہتے ہیں :میرے اور میرے نظریہ کے علاوہ سب چیزیں خیالی اورافسانوی ہیں ان میں سے بھی آگے بڑھ کر کچھ لوگ کہتے ہیں :ہم سب چیزوں میں شک کرتے ہیں حتی اسی اپنے شک میں بھی شک کرتے ہیں !

    یہ وہ لوگ ہیں جو وجود علم کے منکر ہیں اور” سوفسطائی“ کے نام سے معروف ہیں ۔علم فلسفہ کے مباحث میں ان کا مذہب مسترد ہوا ہے اور”علم“ کا وجود ثابت ہو چکا ہے اور یہ اطہر من الشمس ہے کہ انسان اپنی خداداد فطرت سے حقیقت پسند اور خارجی اورمستقل حقیقت کا معتقد ہے ۔

    ہم ،سوفسطائیوں کے مقابلہ میں، کسی حقیقت کو ثابت کرنے والے ،حقیقت کے لئے بہت سے مصادیق کے قائل ہیں کہ ان میں سے ہر ایک مصداق دوسرے سے ممتاز ہے اور اپنے خاص آثار کا سرچشمہ رکھتا ہے ۔خارجی اشیا ء میں سے ہر ایک کی اپنے سے غیر کی نسبت ایک ممتازحقیقت ہوتی ہے اورآثار مرتب کرنے کا اس کا اپنا ایک خاص سر چشمہ ہوتا ہے ۔اسی حالت میں خارج میں دکھائی دینے والی ہر ایک حقیقت دومفہوم کا مصداق ہوتی ہے جواس سے علٰیحدہ ہوتے ہیں اوران دو مفاہیم میں سے ہر ایک کے زائل ہونے سے فرض کی گئی حقیقت معدوم ہو کر باطل ہو تی ہے۔

    ماہیت و وجود :موجود ہ انسان ایک ایسی حقیقت ہے ،کہ اگر اس سے انسانیت سلب کی جائے یاموجودیت کو اٹھا لیا جائے تو اس کی حقیقت ختم ہو جائے گی ،لیکن اسی حالت میں یہ دوبنیادی مفاہیم ایک دوسرے سے متفاوت ہوتے ہیں ،کیونکہ ”وجود“ اور”عدم“ایک دوسرے کے نقیص ہیں اور محال ہے ”وجود“،”عدم“کے ساتھ جمع ہو جائے ۔اس کے برعکس ”ماہیت“وجود اورعدم میں سے ہر ایک کے ساتھ قابل توصیف ہے ۔

    اسی طرح دونوں مفاہیم کے مصداق ذاتاًاصل (یعنی ان کے آثار کے مرتب ہونے کا سرچشمہ ) نہیں ہیں ورنہ ہر خارجی حقیقت دوحقیقتیں ہو تیں ،پس ان دو مفاہیم میں سے ایک ذاتاًاصلی اورآثار کا سرچشمہ ہو گا اور دوسرا اتفاقی طورپر اصل اورحقیقت سے بہرہ مند ہو گا اوردوسرے الفاظ میں ،ان دو مفاہیم میں سے ایک کے مطابق دوسرے کی عین حقیقت اس کے ساتھ متحد ہونے کے ذریعہ ،حقیقت ہو تی ہے جب کہ اپنی ذات کی حد میں اعتباری ہے ۔

    اب یہ سوال پید اہو تا ہے کہ کیا ماہیت اصل ہے یا وجود؟ اس کے پیش نظر کہ خارجی حقیقتیں موجود ماہیتیں ہو تی ہیں ،جب اصل اورآثار کے سر چشمہ سے مرتب ہو جائیں اورمفہوم (موجود)آثارکا مرتب ہونا ان سے جدا ہو جائے تو وجود وعدم کی نسبت ماہیت اپنی ذات کی حد میں مساوی ہوتی ہے ،اس صورت میں کہناچاہئے کہ اصل وجو دہے نہ ماہیت۔

    ان دواستدلالوں سے وجود کی اصلیت اوراصلیت کے بارے میں بیان کئے گئے دوسرے اقوال کا باطل ہو نا واضح ہو تا ہے ،مثلاًماہیت کی اصلیت اور وجود کی اعتباریت کا قول، کیونکہ عقل کے واضح حکم کے مطابق جس ماہیت کی حقیقت اورعدم حقیقت سے نسبت مساوی ہو، اسے عین حقیقت اوراصل نہیں کہا جاسکتا ہے ۔

    اس کے مانند کہ کہا گیا ہے کہ واجب الوجودمیں ممکن ماہیت اصل ہے اورجیسے کہاگیا ہے کہ واجب الوجود میں ممکن خلقت اصل ہے ،جبکہ ہم واجب اور ممکن کی خلقت سے ایک معنی سمجھتے ہیں جو آثار کے مرتب ہو نے کا سرچشمہ ہے اور اس بناپر دولفظ وجوداورتخلیق آپس میں مترادف ہیں اور اس قول کی حقیقت ایک نام سے زیادہ نہیں ہے ۔

    وجودمیں شک:ابتدائی طور پر جاننا چاہئے کہ علما ئے منطق نے ابتدائی اور سطحی طور پر کلّی کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے :”متواطی“اور”مشکک“۔متواطی: ایک ایسی ماہیت ہے کہ اس کے افراد مذکورہ ماہیت کی صداقت کی حثیت سے مساوی ہیں انسان کے مفہوم کے مانند کہ اس کے افراد انسان کے مفہوم کی صداقت کی حیثیت سے مساوی ہیں اور اگر کوئی تفاوت پیش آئے تو وہ عوارض کی وجہ سے ہوتی ہے جو انسان کے مفہوم سے خارج ہو تے ہیں ،مانند لمبائی ،چوڑائی ،وزن ،جوان اور بوڑھا  وغیرہ اورمشکّک: ایک ایسی ماہیت ہے کہ اس کے افراد مذکورہ کلی کی صداقت کی حیثیت سے آپس میں متفاوت ہوتے ہیں ، جیسے، نور، کہ اس کے افراد شدّت اور ضعف کی حیثیت سے مختلف اور متفاوت ہیں اور اس شدّت اور ضعف میں اختلاف اور تفاوت ،نور کی نورانیت کی وجہ سے ہے ۔شدید نور اپنی نورانیت میں شدید ہے نہ نورانیت کے خارجی معنی میں اور اسی طرح ضعیف نور بھی ۔

    عام محسوسات ،اصل میں ،مشکّک ہیں ہم قوئہ باصرہ سے نور کو درک کرتے ہیں اور مصداق کی حیثیت میں مختلف ہو تے ہیں اور اپنی حیثیت سے ان کا اختلاف نورانیت ہے جیسا کہ اشارہ ہو ا۔اوراسی طرح ،لمبائی ،چوڑائی اور دور ونزدیک میں رکھنے والے اختلاف اور خودابعاد اورکمیت میں رکھنے والے اختلاف ،کے پیش نظر ہم ابعاد اور مسافتوں کو درک کرتے ہیں ۔اور قوہ ئسامعہ ہم آوازوں کو سنتے ہیں اور انھیں شدید اورشدید تر اورضعیف اور ضعیف تر پاتے ہیں اور یہ اختلافات خودآوازمیں مسموع ہیں نہ ایک عارضی معنی میں قوئہ شامّہ سے بو کو سونگتے ہیں جبکہ ان میں معطرومعطر تر اور بدبووبدبوتراوربالآخرشدید وضعیف ہے کہ یہ اختلاف رایحہ کی ماہیت میں ہے ۔قوئہ ذائقہ سے ہم مزہ چکھتے ہیں اور ان میں شرین وشرین تراور تلخ و تلخ تراورترش و ترش ترہیں اور ان کا اختلاف خود ان کے مزّہ میں ہے نہ ماہیت سے خارج کسی امر میں قوئہ لامسہ سے ہم ملموس چیز وں کو پاتے ہیں اور ان کے درمیان گرم وگرم تراور سردوسردتراورسخت وسخت تراور نر م و نرم ترہیں اور اسی طرح تمام یہ اختلافات صرف معنای ملموس میں ہیں ۔

    جی ہاں !سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے سے معلوم ہو تا ہے کہ ان مشککہ ماہیات میں ایک اختلاف اورتضاد پایا جاتا ہے ،خود ماہیت میں اس مفہوم کے معنی میں کہ ماھو کے جواب میں واقع ہوتا ہے اختلاف نہیں پایا جاتا ہے بلکہ یہ اختلاف مصداق کی صداقت میں ہو تا ہے۔ مثلاً”خواندگی “کامفہوم ،شدید اور ضعیف میں کسی تغیر واختلاف کے بغیر وہی ”خواندگی “کامفہوم ہے بلکہ”خواندگی“جود خارجی میں خودشدید یا ضعیف ہے،یعنی وجود میں تشکیک ہے نہ ماہیت میں مفہوم کی حیثیت سے ،ان لوگوں کا مقصود یہی ہے ،جو کہتے ہیں :تشکیک غرض میں ہے نہ عرض میں ۔

    اس طرح تشکیک ثابت ہوتی ہے ،لیکن وجو دمیں نہ ماہیت میں ۔اوریہ جو بعض افراد نے کہا ہے : تشکیک معقول نہیں ہے ،کیونکہ اس کا معنی نہیں ہے کہ ایک ہی شئے شدید بھی ہو اورضعیف بھی بالجملہ صفات متقابلہ سے متصف ہو ،یہ شخص کے واحدعددی اور واحد بالعموم میں خلط ہے اور شخص میں صفات متقابلہ سے توصیف  ہونا محال ہے نہ واحد بالعموم میں ۔

    اس بحث سے واضح ہو تا ہے کہ مشکک ایک ایسی حقیقت ہے جو ذات کی حد میں قابل اختلاف ہے اوردوسرے الفاظ میں خود مصادیق میں تفاوت رکھتے ہوئے مابہ الاختلاف سے مابہ الاتفاق کی طرف پلٹتی ہے ۔

    اس مقدمہ کے بیان کے بعد ہم کہتے ہیں :اس کے پیش نظر کہ وجود کا مفہوم،جیسا کہ بیان ہوا ،ایک ایسا مفہوم اور واحد ہے جو وحدت کی بناپر تمام موجودات پر حمل ہوتا ہے۔وجود کی حقیقت جو خارجی حقیقت کے آثار کا مرتب شدہ اس مفہوم ومرحلہ کا مصداق ہے ،منفرد حقیقت اور ایک قسم ہے اور یہی منفرد حقیقت اپنے مصادیق میں وجوب ،امکان ،علیّت، معلولیت ،وحدت ،کثرت،قوت اورفعل  وغیرہ کی حیثیت سے رکھنے والے اختلافات کے پیش نظر محقق ہے ،ایک مشکک حقیقت ہے اورذاتی شدت وضعف کے لحاظ سے اس کے مختلف مراتب ہیں ۔

    یہاں پر واضح ہو تا ہے کہ ایک جماعت سے نسبت  دیا گیا قول،یعنی ”وجود“ ایک مشترک لفظ ہے اور ہر ماہیت کا وجود اسی ماہیت کے معنی میں ہے ،کیونکہ ”وجود“کا مفہوم ”عدم“کا نقیض ہے اور وجود عدم سے نسبت ماہیت ایک مساوی نسبت ہے عقل کے واضح حکم سے ان دو اضدادمیں سے کسی سے ایک واضح طورپر متصف ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے اور اگر ماہیت کا وجود اس ماہیت کے معنی میں ہو ،تو اس کا لازمہ یہ ہو تا ہے کہ نقیضین میں سے ایک کے دوسرے مفہوم کے نقیض سے ملنا جائز ہے ۔اوریہ معقول نہیں ہے ۔حقیقت میں یہ قول مصداق سے مفہوم کے اشتباہ میں سے ہے اور اتحاد ماہیت و وجود کے مصداق اور اتحاد ماہیت اور وجود کے مفہوم کے درمیان خلط ہے ۔اوراسی طرح واجب اورممکن کے درمیان وجود کے مشترک لفظی کا غلط ہو نا اور یہ کہ واجب میں وجوب کامفہوم معنی کی حیثیت سے ممکن میں وجود کے مفہوم سے مختلف ہونا۔

    اور یہ قول بھی اپنے عیوب کے پیش نظر مصداق کے مفہوم کی طرح اشتباہ ہے اور جو اختلاف واجب اور ممکن کے درمیان ہے وہ وجود کے مصداق (عینی حقیقت اورآثار کے مرتب ہو نے کامرحلہ )میں ہے نہ وجود کے مفہوم میں ۔

    بعض نے جو یہ کہا ہے : خارجی وجود تمام الزامات کے حقائق متبا ینہ ہیں ،بھی اسی طرح ہے اور اس قول کے عیب کاسبب کثیر مصادیق سے کثیر کے مانند واحد مفہوم کے نکلنے کا لازمہ ہے جو محال ہے ۔

    ماہیت کا وجود سے متصف ہونا:چنانچہ گزشتہ بحثوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمیں دکھائی دینے والی موجودات میں سے ہر ایک ،ایک ایسی واحد حقیقت ہے جو دو مفاہیم ، وجوداور ماہیت سے جدا ہو نے کا سرچشمہ ہیں اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ ان دو مفاہیم بالذات میں سے ایک کا مصداق اصل اور حقیقت ہو اور دوسرا اس کے غرض میں اصلیت اور حقیقت سے بہرہ مند ہو جائے ۔اور اس کے پیش نظر کہ آثار کا مرتب ہو نا اصلیت کا معیار ہے ،وجود کے علیٰحدہ ہونے پر منحصر ہے ،اصلیت وجود سے متعلق ہے اور ماہیت اس کے عرض سے ،تحقق واصلیت سے بہرہ مند ہو تی ہے اور اپنی ذات کی حد میں اعتباری ہے ۔

    البتہ اس بنا پر ماہیت کی اعتباریت کا معنی یہ نہیںہے کہ کوئی امر خیال اور وہم تھا اور مطلق سے گر کر اس کا موطن صرف خیال اور تصور ہو بلکہ ماہیت ایک خارجی موجود ہے ،جو کچھ ہے ،وہ یہ ہے کہ عین حقیقت اوربالذات اصلیت نہیں ہے بلکہ عرض سے وجود کی اصلیت ہے اور حقیقت کے مطابق ماہیت، وجود کی سر حد ہے کہ جو اپنے وجود کو دوسروں کے وجود سے جدا کرتی ہے ۔

    یہیں پر ایک دوسرے قول کا باطل ہو نا واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ماہیت سے خارجی وجود میں خارجیت سے تحقق رکھتا ہے ورنہ ایک خیال کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔

    باطل ہو نے کا سبب یہ ہے کہ وجود ذہنی کی دلیل کی وجہ سے ماہیت ذہنی ماہیت خارجی کا وجود ذہنی ہے کہ اپنی ذات کی حیثیت سے عین ماہیت خارجی ،اورا حکام وآثار واقعی کے لئے ایک عقلی موضوع ہے اور اگر ہم ایک وہم اور خیالی ہوگا تو اصلی ماہیت خیالی ہو گی اور کلی طورپر حقیقت (حتی حقیقت بالعرض ) کو بھی کھودے گی ۔

    اس کے علاوہ ،”قضایای حقیقیہ“ جو افراد” محققتہ الوجود “اور” مقدرةالوجود“ میں شامل ہیں ،خیالی مفاہیم میں تبدیل ہو کر ،کلی طور پر علوم باطل ہوں گے ،مثلاًطبیب جو اپنی طبابت میں کہتا ہے: ہر انسان کا دل ہے یافلاسفر کہتا ہے: ہرانسان نفس اوربدن کا مرکب ہے ،اس سے مراد صرف انسان کے افرا دہوںگے جنھیں کہنے والے نے خارج میں مشاہد ہ کیا ہے اور کہنے والے کے گزرنے کے ساتھ ختم ہو تا ہے اور اس صورت میںعلم اپنی علمیت سے گر جائے گا ۔ان احکام کے علاوہ خود ماہیت بھی وجودذہنی اورخارجی سے صرف نظر کرتے ہوئے خود ماہیت کے عوارض ذاتی ہوتے ہیں ،ان کی جنسیت ،فصلیت ،ذاتیت اور عرضیت وغیرہ ختم ہوں گی ۔

    جی ہاں !غالباًیہ لوگ ذہنی وجود میں خیالی تصویروں کے قائل ہیں ،اور جس صورت علمیّہ کو خارجی مصداق دکھائی دیتا ہے ،اسے ایک ایسی تصویر کے مانند جانتے ہیں جیسے دیوار پر ایک گھوڑے کی تصویر کھینچی گئی ہے اوراسے دیکھنا انسان کو خارج میں ایک گھوڑے کی یاد دلائے !

    لیکن اس قول کا باطل ہو نا واضحات میں سے ہے،جبکہ ہمارا ادراک ایک نقشہ اورتصویر کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرتا ہے اور صاحب تصویر کو خارج میں درک کرنے میں بالکل محروم ہیں تو یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ تصویر کودرک کرنے سے صاحب تصویرکے خارجی وجود کو حاصل کرسکیں ،جبکہ صاحب تصویر کے خارجی وجودسے کسی صورت میں کوئی خبر نہیں رکھتے ہیں ،اس لئے یہ خیالی قول،واضح طورپر مغالطہ ہے ۔

    نواں حصہ:

    اسلام کی ایک پہچان

    مباہلہ کا عمومی ہونا

    سوال:مسئلہ ”مباہلہ “ کے بارے میں آپ نے تفسیر” المیزان“ میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمارے زمانہ میں بھی ہر مو من مسلمان یہ کام انجام دے سکتا ہے، یہ کیسے ممکن ہے ؟کیا ہر مسلمان جو ظاہر میں مومن ہو ایسا خطر ناک کام انجام دے سکتا ہے؟

    جواب:آیہ مباہلہ کے بارے میں ،کہ مباہلہ عمومی حق رکھتا ہے اور مباہلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نجران کے نصاریٰ سے مخصوص نہیںہے ،واضح ہے اور جو روایتیں اس سلسلہ میں اہل بیت اطہار علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں ،وہ مباہلہ کے عمومی ہونے کی وضاحت کرتی ہیں ۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے متعہ کی مشروعیت و شرعی جواز کے بارے میں ”عبداللہ بن عمیرلیثی “ کے ساتھ اپنے مناظرہ میں عبداللہ بن عمیر کو مباہلہ کی دعوت دیتے ہیں ۔اور اسی طرح ایک اور روایت میں امام علیہ السلام بعض اہل سنت کے مذہبی مناظرہ کرنے والے ایک شیعہ کواپنے  مد مقابل سے مباہلہ کرنے کا حکم فرماتے ہیں، اس بناء پر ،مباہلہ ایک عمومی آیت ہے جسے خدائے متعال نے حق کا محافظ قراردیاہے ۔

    قرآن مجید کا تحریف سے پاک ہونا

    سوال: قرآن مجید کی عدم تحریف کے بارے میں جناب عالی کا نظریہ کیا ہے ؟

    چونکہ ایک شیعہ عالم دین نے ماضی میں تحریف قرآن کے بارے میں ایک کتا ب بھی لکھی ہے جونجف اشرف میں منتشر بھی ہوئی ہے ۔مہربانی کرکے فرمائیے :

    سب سے پہلے:ہم مخالفین کو کیاجواب دیں گے ؟

    دوسرے یہ کہ:مذکورہ کتاب میں موجودہ روایتوں کو ہم کیسے جھٹلائیں گے ؟

    جواب:تحریف قرآن کے بارے میں بہت سی روایتیں سنّی اورشیعہ راویوں سے نقل ہوئی ہیں اور بعض روایوں نے ان پر اعتماد بھی کیا ہے لیکن خودان روایتوں کی حجیّت ان کی عدم  حجیّت اور مسترد ہو نے کا لازمہ ہے ۔ کیونکہ ان روایتوں کی حجیتّ، امامت اور ان کے قول کی حجیّت پر منتہی ہوتی ہے کہ یہ روایتیں ان سے منقول ہیں اورامامت ان کے قول کی حجیّت، نبوت اورقول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر منتہی ہو تی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے نصوص سے امامت اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے قول کی حجیتّ ثابت ہوتی ہے اورنبوت ونبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کی حجیتّ ،قرآن مجید کی آیا ت کے ظواہرپر منتہی ہوتی ہے ،جو نبوت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کی حجیّت کی دلیل ہے ۔اوربدیہی ہے کہ تحریف قرآن کے فرض کے پیش نظر،کم یا زیادہ یا تغیر لفظ یا ایک جملہ اور حتی پورے قرآن میں ایک حرف کی کمی کے معنی میں ،قرآن مجید کا ظہور حجیّت سے گر جاتا ہے اورنتیجہ کے طورپر نبوت اور قول نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حجیّت کی بھی کوئی دلیل نہیں ہوگی۔اور اس کا لازمہ قول امام کی حجیّت کا سقوط ہو گا اور اس کا لازمہ تحریف کے بارے میں روایتوں کی حجیّت کا سقوط ہوگا۔لہذاتحریف کے بارے میںروایتوں کی حجّیت لازمہ ان کی عدم حجیّت ہوگی ۔

    نبی اکرم  کے فعل اور قول میں سہو کا نہ ہو نا

    سوال: علمائے معاصر میں سے ایک شخص نے ”سہوالنبی“کے عنوان سے ایک مقالہ لکھ کر بالآخروہ کام انجام دیا ہے ،جسے مرحوم ”صدوق“ انجام دینا چاہتے تھے افسوس ہے کہ اس کی تئالیفات میں سے ایک کے آخر میں اس کے اپنے دستخط سے یہ مقالہ منتشر بھی ہوا ہے !اصولی طور پر اس موضوع کے بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے؟ اس کے علاو ہ اس قسم کے مسائل پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟

    جواب:بدیہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فعل آپ کے قول کے مانند تبلیغ کے مصادیق میں سے ہے اور سہو بھی خطا کے مصادیق میں سے ہے ،لہذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اقوال یا افعال اور اعمال میں سہو تبلیغ میں خطا ہے اور معارف واحکام الہٰی کی تبلیغ میں خطا خدائی حجّت کے نا مکمل ہونے کا  امکان پید اکرتا ہے اور اس کا لازمہ کتاب وسنّت کا حجیّت سے سقوط ہے ،کیونکہ اس فرض کی بناء پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جاری ہونے والے ہر بیان میں سہو اوراس کے حقیقت کے مطابق نہ ہو نے کا امکان موجود ہے ۔

    قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کی سند

    سوال: کیا قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کی کوئی سند ہے ؟کیا قرآن مجید فال دیکھنے کی کتا ب ہے ؟یاتسبیح کے دانے انسان کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں ؟بعض مومنین ہر کام کے لئے، صلاح ومشورہ سے پہلے کیوں استخارہ کا سہارا لیتے ہیں ؟کیا یہ امر لوگوں کی مذہبی تعلیم وتر بیت میں خامی کا نتیجہ نہیں ہے ؟

    جواب: قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کے بارے میں ائمہ اطہار علیہم السلام سے چند روایتیں نقل ہوئی ہیں اور ان روایتوں کو مسترد کرنے کا کوئی عقلی یا نقلی مانع موجود نہیں ہے ۔ ان روایات سے قطع نظر استخارہ کا شیوہ یہ ہے کہ جب انسان ایک کام کے بارے میں اسے انجام دینے یا ترک کرنے کا فیصلہ کر نا چاہتا ہے ،تو اس کام کے اطراف میں اس کو انجام دینے اور ترک کرنے کی تر جیحات پر غور کرتا ہے اور کام کو انجام دینے یاترک کرنے کی ترجیحات میں سے ایک کو پسند کرکے اس پر عمل کرتا ہے ۔اگرغور وفکر کی راہ سے ترجیح نہ دے سکا تو اس سلسلہ میں دوسروں سے صلاح و مشورہ کر کے تر جیحات میں سے جس کے بارے میں مشورہ ملا ہو اس پر عمل کرتا ہے ۔اوراگر صلاح ومشورہ کی راہ سے بھی ترجیح نہ دے سکا اور کام کے دونوں طرف یعنی انجام اور ترک مساوی رہے اورحیرت میں پڑگیا ،تو قرآن مجید کو اٹھاکر خدا کی طرف توجہ کر کے اسے کھول کر پہلی آیت کے مضمون کو اپنے لئے ترجیح جان کر اس پر عمل کرے ،یعنی کلام اللہ کو سند قرار دے کر خد اپر توکل کرکے دومساوی ترجیحات جو دونوں اس کے لئے جائز تھے ،میں سے ایک کو تر جیح دیتا ہے ۔اور یہ کام جو توکّل کے مصادیق میں سے ہے ،نہ اس میں کسی قسم کا شرک ہے اور نہ دینی احکام میں سے کسی کو ضررپہنچاتا ہے اور نہ کسی حلال کو حرام یاحرام کو حلال کرتا ہے ۔یہ استخارہ قرآن مجید سے ہو یا تسبیح سے ،خد اکی یاد کے وسائل میں سے ایک ہے اورحقیقت میں خداپر توکّل ہے نہ قرآن یا تسبیح کو خدا کا شریک قرار دیاجاتا ہے ۔

    مصحف حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بارے میں ایک بات

    سوال: حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہاکے مصحف کے بارے میں ،شیعوں سے منسوب بعض افراد نے کچھ مطالب لکھ کر ”کویت“ میں منتشر کیا ہے ،جو مسلمانوں کی نفرت کا سبب بنے ہیں ،کیونکہ کتا ب کے مولف نے،مصحف فاطمہ سلام اللہ علیہا کو قرآن مجید کے کئی گنا بیان کیا ہے اور یوں اظہار کیا ہے کہ یہ مصحف قرآن مجید کے درجہ کاہے !اس سلسلہ میں آپ کا نظریہ کیا ہے ؟

    جواب:”مصحف فاطمہ “‘کے نام کی کتاب ،جسے حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے املا ء فرمایا اور امیرالمو منین علی علیہ السلام نے اسے لکھا ہے ،اہل بیت علیہم السلام کی روایتوں میں اس کا ذکر ہوا ہے ۔اس قسم کی کتاب کا وجود (اس کے وجود کا اعتقاد)نہ مذہب شیعہ کی ضروریات میں سے ہے اور نہ خودیہ کتا ب دینی منابع ومصادرکی حیثیت سے بیان ہوئی ہے اورنہ ائمہ معصومین یاعلمائے امامیہ میں سے کسی نے اصول دین یامذہب یادینی احکام کے بارے میں کوئی چیز اس سے نقل کرکے اسے دینی اسناد میں سے ایک سند کے طورپر کتاب وسنت کی سطح پر قرار دیاہے ۔مذکورہ کتاب میں،جیسا کہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے ۔ خلقت کے اسراراورمستقبل کے حوادث کے بارے میںبحث ہے اورایسی کتاب کے وجود پر اعتقاد رکھنا ،خواہ قرآن مجید سے چھوٹی ہو یا بڑی ،کوئی نقصان نہیں پہنچاتا ہے ۔البتہ مصحف فاطمہ سے ،نعوذبا اللہ،ایک دوسرے قرآن کا وجود ہر گز مقصود نہیں ہے اور کوئی شیعہ اس قسم کا اعتقاد نہیں رکھتا ہے ۔

    ائمہ اطہار کے بارے میں غلو کرنا جائز نہیں ہے

    سوال:شیعہ فقہ میں ،ائمہ اطہار علیہ السلام کے حق میں غلوکر نا جائز نہیں ہے اور تمام فقہا کے مطابق غلو کر نے والے دین سے خارج ،کافر اور نجس ہیں،اس مضمون کا کیا معنی ہے ؟اور ہم غلو کرنے والوں کو کیسے پہچان لیں ؟کیا آپ کی نظر میں زمانہ کے گزر نے کے ساتھ ”غالی“کا مفہوم دوسرے عناوین کے تحت ظاہر نہیں ہو اہے ؟

    جواب: اصطلاح میں” غالی“ اس کو کہتے ہیں ،جو اہل بیت اطہار علیہم السلام میں سے کسی ایک کو ،مثلاً بندگی کی حد سے اوپر لے جاکر ربو بیت کی بعض خصوصیت جیسے خلقت ،تد بیر عالم اورتکوین میں بلا واسطہ تصّرف کو ان سے نسبت دے اور زمانہ گزر نے کے ساتھ یہ معنی کسی بھی صورت تحقق پید ا کرے ،تو کو ئی فرق نہیں ہے اور یہ کفر کا سبب ہے ۔جس چیز کی طرف توجہ کر نا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جو کفر کاسبب بنتا ہے وہ خدا کی خصوصیات میں بلاواسطہ اورآزادانہ طور پر اعتقاد رکھنا ہے ،جیسے اشیاء کو بلا واسطہ پیدا کر نا ،بندوں کو بلا واسطہ رزق دینا وغیرہ ۔اماّ ولایت تکوینی  کے سبب سے تکو ینیات کے بعض ممکنات کے لئے فیض کا واسطہ ہونا ،جیسے میکائیل  کا رزق پہنچانے میں اور جبرئیل  کا وحی پہنچانے میں اورملک الموت کا ارواح کو قبض کرنے میں وغیرواسطہ قرار پانا غلو سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہے ۔

    ”للّہ درّ فلان“ اور”کان للّہ رضاً“  کے معانی

    سوال: نہج البلاغہ میں بعض مواقع پر بعض خلفاء کے بارے میں ”للّہ درفلان“ یا”للّہ بلاء فلان“جیسے جملات درج ہیں ۔اور معاویہ کے نام ایک خط میں خلفاء کے ساتھ بیعت کی کیفیت کو ”کان اللہ رضا“کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور بعض دوسرے مواقع پر ،من جملہ خطبہ”شقشقیہ“ میں انہی افراد کی مخالفت میں بعض مطالب بیان ہوئے ہیں ،جناب عالی کی نظر میں ظاہراًان دو متنا قض امور میں جمع کی صورت کیا ہے ؟

    جواب:جملہ ”وکان للّٰہ رضا“کا سیاق ”وللّٰہ درفلان “اور”للّٰہ بلاء فلان“والے جملوں سے مختلف ہے ،اوراس کامعنی اس چیز کی دشمنی کالازمہ ہے جس کا ظاہراًپابند ہو تا ہے اورامت کے اجماع کو خدا کی رضا مندی جانتا ہے اوراگر یہ جملہ خودحضرت کے بارے میں ہو،تو اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے اسلام کی مصلحت کے پیش نظر مجبور ہوکر بیعت کی ہے اوراس بیعت سے خدائے متعال راضی تھا، کیونکہ بیعت سے انکار کی صورت میں اسلام کی بنیاد نابود ہونے والی تھی ۔

    لیکن،”للّہ درفلان“اور”للّہ بلاء فلان “کے جملے بعض خلفاء اور مختلف شہروں میں مامورین کے بعض حاکم اور کارندوں پر اطلاق رکھتے ہیں ۔اوردوسرے معنی کی بناء پر کوئی مشکل نہیں ہے اورپہلے معنی کی بناء پر اس کے پیش نظرکہ شیعہ طریقہ سے حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام اور تمام  ائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل ہوئی سیکڑوں اورہزاروں روایتوں (جن میں سے ایک خطبہ شقشقیہ ہے) کے مطابق خلافت بلافصل امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا قطعی حق تھا ،اس لئے حضرت علیہ السلام جو خلافت کو اپناخاص حق جانتے تھے ،سے دوسروں کی روش کی تمجید میں اس قسم کے جملوں کا بیان ہونا ،صاف ظاہر ہے کہ اسلام کی بلند مصلحتوں کا لحاظ رکھنے کے لئے ہو گا ،یہ وہی مصلحتیں تھیں جن کے پیش نظر امام علیہ السلام کو۲۵سال تک صبر کرنا پڑا۔

    اتحاد اورمحبت کی دعوت

    سوال:تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے مسلمانوں کی مصلحتوں کے تحفظ کے لئے خلفائے ثلاثہ کی بیعت کی ہے ،اس صورت میں صدراسلام میں مقام ومنزلت پانے والے افراد پر سب اور لعن کرنے کا کیا حکم ہے ؟

    کیا ہم حضرت علی علیہ السلام سے بھی دین دارتر بن کر ،علی علیہ السلام کی راہ کے برخلاف اسلام کی مصلحتوں کو نظر انداز کر کے غیرعلمی اورغیرمذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوادیں ؟اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم -عالی سطح پر  - علمی بحث کے حامی ہیں ،لیکن کینہ رکھنا اورمسلمان بھائیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے میں کیا فائدہ ہے اورمذہبی نقطہ نظرسے اس کی کیا صورت ہے؟

    ہم نے عملی طورپر مشاہدہ کیا ہے کہ قاہرہ میں (”دارالتقریب بین المذاہب  الاسلا میہ “ کی تاسیس اور مرحوم آیت اللہ العظمی بروجردی اورآیت اللہ العظمی کاشف الغطاء اوردیگر شیعہ علماء کی تائید کے درخشاں نتائج نکلے جن میں الازہراسلامی یونیورسٹی کے چانسلر”شیخ محمودشلتوت“کامذہب شیعہ پر عمل کرنے کو جائز قرار دینے کا فتویٰ قابل ذکر ہے کیا بہتر نہیں کہ ہم اسی راستہ پر آگے بڑھتے اورعلمی مباحث کو بلند سطح پر جاری رکھیں ،سنّیوں ا ورشیعوں کے خودغرض اورشر پسند گروہوں کو سرگرمیوں کی اجازت نہ دیں تاکہ اسلام کے دشمن ان اختلاف سے ناجائزفائدہ نہ اٹھاسکیں ؟

    جواب:اگراتحاد یااسلامی تقریب دینی معارف کی فراموشی اورمذہبی احکام کے متروک ہونے کا سبب نہ بنے اور اس میں دین کے لئے بھلائی ہو تو عقل ومنطق کے لحاظ سے اس کی ترجیح میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے ۔

    افسوس ہے کہ مسلمانوں نے صدر اسلام میں قرآن مجید کی تعلیمات کی پیروی کرنے کے نتیجہ میں جو توانائی حاصل کی تھی اورجس کے سبب ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک بڑے علاقہ پر حکومت بر قرار کی تھی ،اختلاف کلمہ اوراجتماعی فکر کو چھوڑنے کے نتیجہ میں یہ حیرت انگیز توانائی مکمل طور پر منحل ہوکر مسلمانوں کا حقیقی سرمایہ اورموجودیت نیست و نابود ہوئی ۔

    البتہ اسلام کے ان دو بڑے فرقوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کے عوامل کے بارے میں جانناچاہئے کہ ان دوگرہوں کا اختلاف فروعات میں ہے اوراصول دین میں آپس میں کسی قسم کااختلاف نہیںرکھتے ہیں اورحتی دین کے ضروری فروعات،مانند:نماز،روزہ، حج،جہاد وغیرہ میں بھی یہ دونوں گروہ آپس میں اتفاق نظر رکھتے ہیں اور ایک ہی قرآن اورکعبہ پر اعتقاد رکھتے ہیں ۔

    اسی اصول پر صدراسلام کے شیعوں نے ہر گز اپنے آپ کو اکثریت سے جدا نہ کیا اور اسلام کے عمومی امور کی پیش رفت کے لئے عام مسلمانوں کے ساتھ شر کت کرنے کی کوشش اورکشادہ دلی کی نصیحت کرتے تھے ۔اس وقت بھی تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ دین مقدس اسلام کے اصولوں پر اتفاق کو مدنظر رکھتے ہوئے ،اس طولانی مدت کے دوران اجنبیوں اوراسلام دشمن عوامل کی طرف سے برداشت کئے جانے والے دباؤ اور تکالیف کے پیش نظرہوش میں آئیں اور باہمی اختلاف کو چھوڑ کر ایک صف میں کھڑے ہو جائیں اور اس سے قبل کہ دوسرے اس مسئلہ کو ایک تاریخی حقیقت کے عنوان سے کشف کرکے اپنی کتا بوں میں درج کریں ،خودمسلمان اس حقیقت کو عملی طور پر ثابت کریں ۔

    خوش قسمتی سے دنیائے اسلام آہستہ آہستہ اس حقیقت سے آگاہ ہوتی جارہی ہے ۔تقریب مذاہب کی فکر کی اسی غرض سے شیعہ مراجع نے تائید کی ہے اور”الازہر“کے بزرگوار شیخ شلتوت نے بھی اس حقیقت کو بالکل واضح طور پر بیان کر کے،شیعہ ا ورسنی کے مکمل دینی اتفاق کاتمام دنیا والوں کے لئے اعلان کیا ہے اور شیعوں کو اس بزر گوار شخصیت کا شکر گزار رہنا چاہئے اوراس کے اس بے لوث کام کی قدر کرنی چاہئے ۔

    جیسا کہ سوال میں اشارہ ہواہے کہ یہ امرعقیدتی مسائل میں علمی ا ورتاریخی بحث سے منافات نہیں رکھتا ہے اور عالی سطح پر شیعہ وسنی علمی مباحثہ جاری رہناچاہئے تاکہ لوگوں کے لئے تاریکیاں روشن اورحقائق واضح ہو جائیں اور اس امر کا ،تعصب ،حملہ اورجھوٹ پھیلانے سے کوئی ربط نہیں ہے ۔

    ہم خدائے متعال سے دعاکرتے ہیں کہ خودغرض اورشرپسند عناصر کی ہدایت اوراصلاح فرمائے اورمسلمانوں کو یہ توفیق عطاکرے کہ وہ عملی طورپر اتحاد واتفاق سے اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کریں ۔انہ سمیع مجیب ۔

    مشرق وسطی میں انبیاء کی بعثت

    سوال:انبیاء علیہم السلام کی بعثت کاصرف سعودی عربیہ،مصر،شامات اورانہی علاقوں تک محدود ہونا اوردنیا کے دوسرے علاقوں (یورپ۔آسٹریلیا)وغیرہ سے مربوط نہ ہونے کا سبب کیا ہے  ؟

    جواب:ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوجائے کہ انبیاء صرف مشرق وسطی اور اس سے مربوط علاقوں میں مبعوث ہوئے ہیں ۔بلکہ ظاہر آیہ<․․․خلافیھا نذیر>۱  عدم انحصارپر دلالت کرتی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ تقریباًبیس سے زائد جن انبیاء کا قرآن مجید میں ذکر آیاہے وہ مشرق وسطی ٰاوراس کے

    علاقوں سے مربوط ہیں ۔

    ۱۔ ”کوئی قوم ایسی نہیںہے جس پرکوئی ڈرانے والانہیں گزراہو“(فاطر/۲۴)

    استعدادوں میں فرق

    سوال:قابلیتوں کے اختلافات کا سرچشمہ اور خلقت کے وقت مخلوقات کی استعدادآپس میں متفاوت ہیں ،مثال کے طورپر ایک نبوت یاولایت کافیض پاتا ہے اوردوسرے ایسے نہیں ہوتے ۔اسی طرح تمام مخلوقات میں بھی یہ اختلافات پائے جاتے ہیں ،ان اختلافات کی علت کیا ہے ؟

    جواب:استعداد مطلق مادّہ کی ذاتی خصوصیت ہے اور یہ مختلف شرائط کے ساتھ

    مختلف تعینات پیدا کرتا ہے ،مثلاًمادّہ،جسمیّت اور عنصریت کے شرائط کے تحت نباتاتی استعداد رکھتا ہے اور نباتات زمین اور ہوا کے شرائط کے تحت میوہ کی قابلیت اور میوہ تغذیہ کی شرط کے تحت نشوونما کی قابلیت اور منی خاص حیوان کے رحم  میں قرار پانے کی شرط کے تحت، خاص حیوانوں کی صورت کی قابلیت پیدا کرتی ہے ۔مادّہ کی فاعلی علّت کو مادہ اورطبیعت کے ماوریٰ میں ثابت کرنا چاہئے لیکن کلی طورپر اس سوال کو اختلافات کی علت غائی کی نسبت کے طورپر بیان کرتے ہیں ۔قابلیتوں کے اختلاف ،جن کے اختلاف کا سر چشمہ فیض ہے ، کی غرض کیا ہے؟کیافرق پڑتا اگرخدائے متعال فیض کو عمومی فرماتا اوردنیامیں ، شر،فساداورکمی کا وجودنہ ہوتا؟

    اس کا جواب یہ ہے کہ کائنات کی خلقت کا مقصد،مکمل ترین موجودات کی پیدائش ہے جو ”انسان کامل“ ہے

    <․․․خلق لکم مافي الارض جمیعا․․․>(بقرہ/۲۸)

    ”․․․زمین کے تمام ذخیروں کو تم ہی لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے ․․․“

    <وسخّر لکم ما في السماوات ومافي الارض جمیعا․․․>(جاثیہ/۱۳)

    ”اوراسی نے تمہارے لئے زمین وآسمان کی تمام چیزوں کو مسخر کردیاہے “

    انسان کا ارتقاء امتحان کی راہ میں ہوتا ہے ،لہذا دنیا میں مختلف استعدادوں کا ہونا ضروری ہے ،ورنہ امتحان کا کوئی معنی نہیں ہوگا ۔

    حضرت خضر اورحضرت موسیٰ علیہما السلام کے متعلق بعض شبہات

    سوال: حضرت موسیٰ علیہ السلام اورجناب خضرعلیہ السلام کے قضیہ میں کشتی کو

    توڑ نے میں غیر کے مال میں تصرف اورغلام کے قتل میں جرم سے پہلے قصاص معلوم ہوتا ہے اور دیوار کے نیچے خزانہ سے کیا مراد ہے ؟حضرت خضر علیہ السلام کیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معلم بن گئے ،جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس رسالت کا عہدہ تھا اوراپنے زمانہ میں معرفة اللہ کا مقام رکھتے تھے اوراسی طرح روبیل نامی چروا کا حضرت یونس علیہ السلام کو موعظہ کرنا اورھدھد کا حضرت سلیمان علیہ السلام سے گفتگو کرنا کہ <احطت بمالم تحط بہ>۱  اورچیونٹی کا یہ کہنا :<․․․وھم لا یشعرون>۲

    جواب :کشتی کو توڑنے اور قتل جیسے ہزاروں حوادث قضاوقدر الہٰی کے مطابق روزانہ دنیا میں رونماہوتے ہیں اور ان میںغیرکے مال میں تصرف اور جرم سے پہلے سزا کا خدائے متعال سے ہر گز کوئی تعلق نہیں ہے ،کیونکہ خدائے متعال مطلق مالک اورمشرّع

    ۱۔”مجھے ایک ایسی بات معلوم ہوتی ہے جوآپ کوبھی معلوم نہیں ہے“(نمل/۲۲)

    ۲۔”اورانھیں اس کا شعوربھی نہ ہو“(نمل/۱۸)

    ہے نہ متشرّع اورمکلّف ،وہ جوبھی کام انجام دے عین عدل اوربالکل مصلحت ہے چنانچہ حضرت خضر علیہ السلام کے کلام :<․․․وما فعلتہ اٴمری ․․․>۱”میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا ہے ․․․“سے معلوم ہو تا ہے ،کہ جو کام حضرت خضر علیہ السلام نے انجام دئے ہیں ان کا صرف تکوینی پہلو تھا نہ تشریعی پہلو یعنی خدا کے حکم سے ان تین کاموں میں ،جو انہوں نے انجام دئے ،صرف تکوینی سبب مقصود تھا اور ان کی مصلحت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتادی جائے ،نہ تشریعی سبب جو حرام بن جاتا ہے ۔اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،خدائے متعال بعض امورکی مصلحتوں کی تعلیم حضرت خضر علیہ السلام کے ذریعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کودے دی اگرچہ موسیٰ علیہ السلام ان سے افضل بھی ہوں یاروبیل چرواہے کی زبان سے حضرت یونس علیہ السلام تک کوئی موعظ پہنچادے ۔

    اسی طرح ھدھد کی گفتگو جو اس کے لئے بلقیس اورملک سبا کے حالات کا مشاہدہ کرنے کا ثبوت اورحضرت سلیمان کے لئے اس کی نفی کی ہے ،کوئی حرج نہیں ہے ۔اسی طرح چیونٹی کی گفتگو میں دوسری چیونٹیوں کو حضرت سلیمان علیہ السلام اور اس کی فوج کے ذریعہ پائمال ہونے سے بچنے کی خبر دنیااور اس میں غفلت کے ثابت ہونے کی وضاحت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    ۱۔(کہف /۸۲)

    تشریعی اوراعتباری ولایت

    سوال:پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورامام علیہ السلام کی تشریعی اور اعتباری ولایت کا کیا مقصد ہے، جو آپ نے تفسر”المیزان“ میں آیہ شریفہ :<انّما ولیّکم اللّٰہ ․․․>۱کے سلسلہ میں فرمایا ہے ۔؟

    جواب:اس کامقصد دینی قوانین (اسلامی حکومت) کے سایہ میں لوگوں کی سر پرستی اورامت کا نظم ونسق چلانا ہے ۔

    انذار (ڈرانے)کے معنی

    سوال:آیہ شریفہ :<مامن دابّة في الارض ․․․الّاامم امثالکم ․․․>

    اورآیہ شریفہ:<الا خلا فیھا نذیر>۲کے مطابق کیا حیوانات اورپرندے بھی مکلّف ہیں ؟اس انداز کا مقصود کیا ہے ؟

    جواب:انذارکا مقصد عذاب الہٰی سے ڈرانا ہے اورالہٰی دعوت اسی پر مشتمل ہوتی ہے ،لیکن دوسری آیت ،میں موجودقرینہ <وان من قریة․․․>۳کے مطابق حیوانات اورپرندوں پر مشتمل نہیں ہے ۔

    سوال:آیہ شریفہ<انّ عبادي․․․>۴  کی روسے آدم پر شیطان کا وسوسہ کرنا ،آیہ شریفہ <ان اللّٰہ اصطفیٰ آدم ․․․>۵ سے ہم آہنگی نہیں رکھتا ہے !اس

    ۱۔انعام /۳۸        ۲۔فاطر/۲۴

    ۳۔اسراء/۵۸       ۴۔اسراء/۶۵

    ۵۔آل عمران /۳۳

    سلسلہ میں آپ کا جواب کیا ہے ؟

    جواب :آیہ شریفہ:

    <قلنا اھبطوا منھا جمیعا فإما یاتینّکم  مني ھدی>(بقرہ/۳۸)

    ”اورہم نے یہ بھی کہا کہ یہاں سے اترپڑو پھر اگر ہماری طرف سے ہدایت آجائے ․․․“

    کے مطابق دین کی تشریع،جنت سے نکلنے کے بعد تھی ۔اورآیہ شریفہ :<ان عبادی لیس لک علیہم سلطٰن․․․>۱میں دین کی تشریع کے بعد دنیا میں بندوں کے حال کی طرف اشارہ ہے اور اسی طرح آدم کا اصطفیٰ ہونابھی آیہ شریفہ :<ثم اجتبٰہ ربہ فتاب علیہ وھدیٰ>۲کے مطابق دنیا میں اور دین کی تشریع ہو نے کے بعد تھا اور آدم علیہ السلام پر شیطان کا وسوسہ بہشت میں زمین پر بھیجنے اوردین کی تشریع سے پہلے تھا اور اس میں معصیت کا کوئی ولائی پہلو موجود نہیں تھا بلکہ ایک امر ارشادی کی مخالفت تھی ،لہذاا ٓیات کریمہ میں کوئی منافات نہیں ہے ۔

    حروف مقطعات کا مقصود

    سوال: سوروں کی ابتدا میں حرو ف مقطعات کے بارے میں تفسر” المیزان “میں کچھ نہیں پایا ،مہربانی کرکے فرمائیے کہ یہ موضوع تفسیرکی کس جلد میں ہے اوراصولی طور پر حروف مقطعات کا مقصد کیا ہے ؟

    جواب: سوروں کی ابتدامیں موجودہ حروف مقطعات کے بارے میں سورئہ

    ۱۔حجر/۴۲

    ۲۔طہ /۱۲۲

    شوریٰ میں بحث کی گئی ہے ،اطمینان واعتماد کے مطابق حروف مقطعات ”رمز“ہیں ۔

    قطبین پر نماز گزار اور روزہ دارکافریضہ

    سوال: قطبین (قطب شمالی اور قطب جنوبی ) پر نماز اور روزہ کے اوقات کا کیسے تعین کیا جائے گا ؟

    جواب: فقہا کا نظریہ یہ ہے کہ قطبین کے باشندے اپنی عبادت کے اوقات کے لئے علاقہ کے وسط کی پیروی کریں  ،چنانچہ اجتماعی امور اور اوقات کو معین کر نے میں اسی رویہ کو معمول جانتے ہیں ۔

     
    FirstName :
    LastName :
    E-Mail :
     
    OpinionText :
    AvrRate :
    %0
    CountRate :
    0
    Rating :