ترجمہ۔ اے ایماندارو! احرام کی حالت میں شکار نہ کرو۔ اور تم میں سے جو شخص جان بوجھ کر شکار کو قتل کرے گا تو اس کی سزا اور کفارہ چوپالوں میں سے اسی جیسا جانو رذبح کرنا ہے ۔ اور ( اس جیسا ہونے کے لئے) دو عادل گواہ فیصلہ کریں گے ۔ (یہ جانور ) ایک ہدیہ اورقربانی ہے جو کعبہ تک جا پہنچے ۔ (وہیں پر ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت وہاں کے غریبوں کو ملے) یا ذبح شدہ شکار کے برابر کفارہ ہے جو مسکینوں کے دیا جائے یا اس کے برابر روزے رکھے۔
(یہ تین طرح کا کفارہ اس لئے ہے ) تا کہ شکاری اپنے کئے ہوئے شکار کا مزہ چکھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری اس سے قبل کی خلاف ورزیوں کو معاف کر دیا ہے (جب تک کفارہ کا قانون نہیں آیا تھا ) اور جو شخص ( شکار کے قتل کا ) اعادہ کرے گا خدا ہی اس سے انتقام لے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ ناقابل شکست اور انتقام لینے والا ہے ۔
پیام
۱۔ حرم کعبہ کا امن وا مان اور اس کی حفاظت کرنی چاہئیے خواہ جانوروں کے لئے ہی ہو ۔ (لا تقتلوا الصید)
۲۔ عمل سے زیادہ خطرناک جان بوجھ کر برائی کا قصد کرنا ، اس کا سوچنا اور اسے ہدف قرار دینا ہے۔ (متعمدا)
۳۔ سزا منصفانہ ہونی چاہئیے ۔ (مثل ما)
۴۔ سزا اور جرمانہ کا اجر ا سوچ سمجھ کر اور خوب غور و خوض کے ساتھ ہونا چاہئیے۔ (یحکم بہ ذواعدل)
۵۔ جرمانی کی ادائیگی کے لئے مجرم کا ہاتھ کھلا چھوڑنا چاہئیے۔ (قربانی دے یا کھانا کھلائے یا روزے رکھے) اور اس کی جسمانی اور مالی توانائیوں کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔
۶۔ کعبہ کے باہر گناہ کے ارتکاب کا کفارہ بھی کعبہ کے باہر ہی ادا کرنا چاہئیے۔ (بالغ الکعبة)
۷۔ خدا کی طرف سے مقر ر کردہ جرمانے تربیت کا پہلو رکھتے ہیں اور انسانی غرور کو توڑتے ہیں (وبال امرہ)
۸۔ قوانین کا اجراء رسمی طور پر قوانین کے اعلان کے بعد ہوتا ہے (عضی اللہ عماسلف)
۹۔ گناہ کا تکرار ‘ زبردست اور سخت سزا کا موجب بن جاتا ہے (ومن عماد ۔۔۔ )
آیت ۹۶
اَحِلَّ لَکُمْ صَیْدَ الْبَحْرِ وَ طَعَامُہ مَتَاعًا لَّکُمْ وَ لِلسِّیَّارَةِ وَ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدَ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ط وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ہ
ترجمہ۔ دریاکی شکار اور اس کی غذا تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہے ۔ (یہ شکار اور خوراک ) تمہارے لئے اور قافلہ والوں کے لئے زادراہ ہے۔ اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو خشکی کا شکار تمہارے لئے حرام ہے ۔ او راس خدا سے ڈرتے رہو جس کی طرف تمہیں محشور ہونا ہے۔
ایک نقطہ :
اس آیات کی رو سے احرام کی حالت میں دریا کی شکار اور اسکی غذا کا استعمال جائز ہے ۔ لیکن صحرائی جانوروں کا شکار اور ان کی غذا کا استعمال حرام ہے ۔ (ملاحظہ ہو تفسیر مجمع البیان اور دیگر فقہی کتابیں)
پیام
۱۔ احرام والے شخص کے لئے تمام راہیں بند نہیں کی گئیں (احل ۔۔۔۔حرم )
۲۔ دریائی شکار یا غذا صرف ساحل نشینوں کے ساتھ خاص نہیں ہے (ولسیارة)
۳۔ ساحل نشینوں کو دریاسے استفادہ کرنے میں اولویت ضروری حاصل ہے (لکم و للسیارة)
۴۔ کسی چیز کا حلال یا حرام کرنا ہمیشہ کے لئے ذاتی نہیں ہوتا ، بلکہ بعض اوقات زمان اور مکان کی کیفیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تاریخ اور جغفرایہ کے پیش نظر احکام الہیٰ مئوثر ہوں (وانتم حرم)
۵۔ قیامت اور معاد پر ایمان ہی تقوی کا موجب ہوتا ہے (واتقو اللہ الذی الیہ تحشرون)
۶۔ انسانی آبادی کا کثرت سے اژدھام اور عبادی وسیاسی مراسم کی ادائیگی کو جانوروں کی نسل یا درختوں کی تباہی کا موجب نہیں ہونا چاہئیے۔
آیت ۹۷
جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًالِلنَّاسِ وَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ والْھَدْیَ الْقَلَائِدَ ذٰلِکَ لِتَعْلَمُْوْا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ للّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عُلَیّمٌ ۔
ترجمہ۔ خداوند عالم نے کعبہ حرمت والے گھر کعبہ کو لوگوں کے لئے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا ہے اور( اسی طرح)حرمت والا مہینہ اور بے نشان قربانیوں اور نشاندار قربانیوں کو بھی (لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے) یہ سب اس لئے ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور خداوند عالم ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
نکات:
"قیام" پائیداری کا ذریعہ ہے جس طرح خیمہ کے لئے ستوں اس کی پائیداری کا ذریعہ ہوتا ہے (سفطہ ہو مفردات راغب)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کعبہ کو اس لئے "بیت الحرام " کہا گیا ہے کہ وہاں پر کفارکا داخلہ حرام ہے۔ (تفسیر نور التقلین)
کسی امر کے قائم اور پائیدار ہونے کے لیے چند چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ۱۔مرکزیت ۔ ۲۔ امن و امان ۳۔ غذا اور خوراک ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ تینوں چیزیں کعبہ بیت الحرام میں مقر ر فرما دی ہیں ۔ کہ یہ جگہ مرکز مسلمین بھی ہے ۔ وہاں ہر کسی کو کسی قسم کے جھگڑے فساد کی اجازت بھی نہیں ۔ او رقربانی کا گوشت مسلمان کی غذابھی ہے۔
"ھُدی" بغیر نشانی والی قربانی کو کہتے ہیں او ر"قلائد " نشانی والی قربانیوں کو حرمت والے مہینے چار ہیں ۱۔ رجب ۲۔ ذیقعد ۳۔ ذی الحجہ اور ۴ محرم کو ان مہینوں میں جنگ ممنوع اور حرام ہے۔
اس مقام پر مسلمانوں کالا کھوں کا اجتماع جس میں نہ تو کسی قسم کا سرکاری پرٹوکول ہوتاہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی امتیاز روا رکھاجاتاہے ایک مقدس مقام پر لفظی اور عملی جدال اور نزاع سے پاک موحول اسلام کے امتیاز میں سے ایک ہے۔ اور اگر ہم حج کی دوسری برکتوں کو بھی مد نظر لے آئیں یعنی حج پر جاتے وقت یا حجاج کی واپسی پران سے ملاقات کے موقع پر مسلمانوں کا ایک دوسرے سے معافی طلب کرنا ، اپنے گناہ بخشوانا ، ایام حج میں تجارت کی رونق ، خمس و زکات کی ادائیگی، معار ف الہیٰ اوررنگ و نسل کا امتیاز کئے بغیر مختلف قوموں کی ایک دوسرے آشنا کی ، سب لوگوں کا توحید کے قدیم ترین مرکز میں اجتماع ، گریہ وزری صحرائے عرفات و شعر میں توبہ کرنا اور وہاں پر قیامت کی یاد دلوں میں رونا ‘ سیاسی مشقیں اور کفارے اظہار برائت اور اس قسم کی دوسری برکتوں کو نظر میں لے آئیں تو ہمیں اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ حج کے یہ تمام جچے تلے پروگرام اور منصوبے ۔ خدا کے ایسے بے پایاں علم سے عمل میں آئے ہیں جو کائنات کی ہر چیز سے آگاہ ہے او رمحدود علم ہر گز اس قسم کے ہر کشش قوانین جاری نہیں کر سکتا۔
پیام
۱۔ "کعبہ " سب کے لئے ہے (للناس)
۲۔ مسلمانوں کا ثبات اور ان کی زندگی حج سے وابستہ ہے (قیاماللناس)
۳۔ امور کے قیام کے لئے اجتماعیت ‘ وحدت اور عبادت (کعبہ) قدس اور حرمت(بیت الحرام) امن اور سکون (الشھرالحرام) نشاندار اور بے نشان کام (ھدی و قلائد) اور بقدر ضرورت غذا اور خوراک ضروری ہے
۴۔ کعبہ جو کہ حرمت والاگھر ہے سادہ پتھروں سے بنایا گیاہے اور یہ اس کی معنوی قدرو قیمت کی دلیل ہے ۔
۵۔ قانون سازی اورقوانین کے نفاذ کا حق اسے حاصل ہوتاہے جو تمام کائنات سے آگاہ ہوتاہے (یعلم مافی السموت و مافی الارض)
۔ احکام الہٰی کا سرچشمہ اس کا بے پایاں اور بیکراں علم ہے ۔ اگر تمہیں ان احکام کا فلسفہ نظر نہ آئے تو ا س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ احکام ہی نا مناسب ہیں ۔ اس لئے کہ وہ خود انہی سے آگاہ ہے ۔ (ذالک لتعلموا)
۷۔ خدائی قوانین کے بعض اسرار ور موز مستقبل میں واضح ہوں گے اور سمجھ میں آئیں گے (تعلموا)
۸۔ مسجد ہو یا قربانگاہ دونوں قیام و پائیداری کاموجب ہیں (کعبہ ، ھدی )
آیت ۹۸ ، ۹۹
اِعْلَمُوْآ اَن اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔ مَاعَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتُبْدُْونَ وَ مَاتَکْتُمُوْنَ ۔
ترجمہ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا وند عالم سخت عذاب دینے والا ہے اور اللہ تعالی یقینا بخشنے والااور مہربان ہے۔
پیغمبر پر سوائے (احکام الٰہی کے )پہنچانے کے اور کچھ نہیں اور اللہ تعالی جانتاہے جو کچھ کہ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔
پیام
۱۔ تشویق و ترغیب اور تہدیدو دھمکی ساتھ ساتھ ہونی چاہئیے (شدید العقاب ، غفورر حیم