ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
 
 
 
قرآنی علوم
 
آیت ۹۵ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ ط وَمَنْ قَتَلَہ مِنْکُمْ مُعْتَمِدًا فَجَزَآءُ مِثْلَ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَةِ اَوْ کَفَّارَةٌ طَّعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صَیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِہ ط عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ ط وَمَنْ عَادَفَیَنْتَقِمُ اللّٰہُ مِنْہُ ط وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوْا انْتِقَامٍ ہ ترجمہ۔ اے ایماندارو! احرام کی حالت میں شکار نہ کرو۔ اور تم میں سے جو شخص جان بوجھ کر شکار کو قتل کرے گا تو اس کی سزا اور کفارہ چوپالوں میں سے اسی جیسا جانو رذبح کرنا ہے ۔ اور ( اس جیسا ہونے کے لئے) دو عادل گواہ فیصلہ کریں گے ۔ (یہ جانور ) ایک ہدیہ اورقربانی ہے جو کعبہ تک جا پہنچے ۔ (وہیں پر ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت وہاں کے غریبوں کو ملے) یا ذبح شدہ شکار کے برابر کفارہ ہے جو مسکینوں کے دیا جائے یا اس کے برابر روزے رکھے۔ سورہ مائدہ آیت نمبر ۸۱ تا ۱۰۵ سورہ مائدہ آیت ۸۱ وَلَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ النّبِیِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْھُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لَکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ہ ترجمہ۔ اور اگر وہ خدا، پیغمبر اور جو کچھ پیغمبر کی طرف نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لے آئے تو پھر ہرگز کافروں کو اپنا سرپرست اور دوست نہ بناتے۔ لیکن ان میں سے بہت سے لوگ فاسق ہیں۔
 
 
 
 
 
رسول اعظم (ص)
 
دعائے حضرت رسول،دعائے سریع الاجابت سید ابن طاؤس نے مہج الدعوات میں امام محمد باقر (ع)سے نقل کیا ہے کہ جبرائیل (ع) نے رسول الله سے عرض کیا کہ میں کسی پیغمبر کو آپ سے بڑھ کر دوست نہیں رکھتا پس آپ بکثرت یہ پڑھا کریں : اَللّٰھُمَّ إِنَّکَ تَریٰ وَلاَ تُریٰ وَأَ نْتَ بِالْمَنْظَرِ الْأَعْلیٰ وَأَنَّ إِلَیْکَ الْمُنْتَہیٰ وَالرُّجْعیٰ وَأَنَّ لَکَ اے معبود تو دیکھتا ہے اور تو دیکھا نہیں جاتا اور تو اعلیٰ مقام پر ہے اور بے شک انتہا اور بازگشت تیری ہی طرف ہے بے شک تیرے الاَْخِرَةَ وَالْاُولیٰ وَأَنَّ لَکَ الْمَماتَ وَالْمَحْیَا وَرَبِّ أَعُوذُ بِکَ أَنْ أُذَلَّ أَوْ أُخْزی ہی لیے دنیا و آخرت ہے بے شک تیرے ہاتھ میں ہی موت اور زندگی ہے اور اے پروردگار میں اپنی ذلت و رسوائی میں تیری ہی پناہ لیتا ہوں۔ کیا معراج ،آج کے علوم سے ہم آہنگ ہے؟ گزشتہ زمانے میں بعض فلاسفہ بطلیموس کی طرح یہ نظریہ رکھتے تھے کہ نو آسمان پیاز کے چھلکے کی طرح تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں واقعہٴ معراج کو قبول کرنے میں ان کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ان کا یہی نظریہ تھا ان کے خیال میں اس طرح تویہ ماننا پڑتا ہے کہ آسمان شگافتہ ہوگئے اور پھر آپس میں مل گئے؟
 
 
 
 
 
امام مھدي (عج) كي جہاني حكومت 
 
مہدی(عج) کا انکار کفر ہے فرائد السمطین، کتاب البرہان فی علامات مہدی آخرالزمان(ع) ، باب۲، کتاب الاشاعۃ ص۱۱۲، کتاب الاذاعہ، ص۱۳۷، کتاب التصریح، ص۴۴۲، کتاب العرف الوردی فی اخبار المہدی، ج۲ص۸۳ اور بعض دیگر کتب میں فوائد الاخبار مولفہ ابی بکر اسکافی نیز ابوبکر بن خیثمہ کی کتاب اخبار المہدی، اور شرح سیر سھیلی کے حوالوں سے جابر بن عبداللہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ: پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: غیب پر ایمان الذین یؤمنون بالغیب) جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں(۔بقرہ/۳ تمام نبوّتوں اور مذاہب حقہ کا مرکزی نقطہ اور انبیائے الٰہی کے دین کو دوسرے مذہبوں سے ممتاز کرنے والے عقیدے کا نام ''ایمان بالغیب ''ہے۔ انبیائے کرام عالم محسوس یا عالم ظاہر سے عالم معقول یا غیب کے درمیان موجود رابطے کو بیان کرتے ہیں اور اس طریقۂ کار کے ذریعہ بشریت کو عالم غیب کی تعلیم دیتے ہیں۔
 
 
 
 
 
چہارہ معصومين (ع) كي سيرت طيبہ
 
رسول اللہ کی ولادت باسعادت اکثر محدثین اور مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت محمد کی ولادت باسعادت عام الفیل میں یعنی نزول وحی سے چالیس سال قبل ماہ ربیع الاول میں ہوئی۔ لیکن یوم پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے۔ شیعہ محدثین و دانشوروں کی رائے میں آپ کی ولادت ۱۷ ربیع الاول کو ہوئی اور اہلسنّت کے مورخین نے آپ کا روز ولادت ۱۲ ربیع الاول تسلیم کیا ہے۔ پیغمبر اکرم کا نسب رسولِ خدا کا تعلق خاندانِ ہاشم اور قبیلہ قریش سے ہے۔ جزیرہ نما عرب میں تین سو ساٹھ قبیلے آباد تھے۔ ان میں قریش شریف ترین قبیلہ تھا۔ ماہرین نسب کی اصطلاح میں حضرت نضر بن کنانہ کی نسل ہی کو قریش کہا جاتا تھا جو کہ آنحضرت کے بارہویں جدامجد تھے۔ آپ کے چوتھے جد اعلیٰ حضرت قصیٰ بن کلاب کا شمار قبیلہ قریش کے سربرآوردہ افراد میں ہوتا تھا۔ انہوں نے ہی کعبہ کی تولیت اور کنجی قبیلہ ”خزاعہ“ کے چنگل سے نکالی تھی۔ انہوں نے ہی حرم کے مختلف حصوں میں اپنے قبیلے کے افراد کو آباد کیا اور کعبہ کی تولیت سنبھالی تھی۔(۲) مورخ یعقوبی لکھتا ہے:
 
 
 
 
 
شيعوں سے متعلق خبريں
 
مآخذ: ابنا خصوصی print 22 بہمن ـ 11 فروری؛ رہبر انقلاب اسلامی نے 22 بہمن کے روز عوام کے حیرت آفرین حضور کا شکریہ ادا کیا تاریخ: 2010/02/12 مآخذ: ابنا خصوصی print 22 بہمن ـ 11 فروری؛ رہبر انقلاب اسلامی نے 22 بہمن کے روز عوام کے حیرت آفرین حضور کا شکریہ ادا کیا رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 22 بہمن کی ریلیوں میں کروڑوں عوام کی حیرت آفرین شرکت کا شکریہ ادا کیا۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی نے عوام کے عظیم کارنامے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: "ملت ایران کے دوستوں اور دشمنوں کو جان لینا چاہئے کہ ملت ایران نے اپنا راستہ پہچان لیا ہے اور اس نے پیشرفت و سعادت کی چوٹیاں سرکرنے کا عزم کرلیا ہے اور وہ اپنے راستے سے ہر قسم کے رکاوٹیں ہٹالے گی"۔ مآخذ: مآخذ: ابنا خصوصی print یوم شہادت: حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا یوم شہادت تاریخ: 2010/02/15 مآخذ: مآخذ: ابنا خصوصی print یوم شہادت: حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا یوم شہادت آج یوم شہادت امام رضا علیہ السلام کی مناسبت سے پورے ایران میں فرزند رسول حضرت امام رضا علیہ السلام کا سوگ منایا جا رہا ہے اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں رسول اسلام صل اللہ علیہ و آلہ وسلم اور نواسہ رسول حضرت امام حسن علیہ السلام کی عزاداری کے بعد کل رات سے ہی حضرت امام رضا علیہ السلام کی عزاداری کا آغاز ہو گیا تھا۔
 
 
 
 
 
اعتراضات كے جوابات
 
حی علٰی خیر العمل" كے جزء اذان ھونے كی دلیل وہ دلیلیں جو یہ ثابت كرتی ھیں كہ "حی علٰی خیر العمل" اذان و اقامت كا جزء ھے، اور اس كے بغیر اذان و اقامت درست نھیں، مندرجہ ذیل ھیں: شفاعت کر نے والے ۱۔قرآن مجید: جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے ارشاد فرمایا:”تَعَلَّمُو ا الْقُرآنَ فَاِنَّہُ شٰافِعٌ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ۔“[1]”یعنی قرآن کی تعلیم حاصل کرو کیونکہ قرآن قیامت کے دن شفاعت کر نے والا ھے جیسا کہ حضرت علی (ع) نے بھی قرآن کے بارے میں فرمایا:”فَاِنَّہُ شٰافِعٌ مُشَفَّعٌ“[2]”یعنی قرآن شفاعت کرنے والا ھے اور اس کی شفاعت قبول ھے۔“
 
 
 
 
 
دنيا بھر كے شيعہ ادارے
 
زندگی کی مشکلات میں ذاتی تجربات: بہت سے لوگوں نے اپنی زندگی میں اس بات کا تجربہ کیا ہے کہ جس وقت بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور بلاؤں اور مصیبتوں کا طوفان آتا ہے جہاں پر ظاہری اسباب دم توڑدیتے ہیں، اور انسان کی گردن تک چھری پہنچ جاتی ہے، تو اس طوفانی موقع پر اس کے دل کی گہرائیوں سے ایک امید پیدا ہوتی ہے اور انسان اس مبداکی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس کی تمام مشکلات کو دور کرسکتا ہے، لہٰذا انسان اسی سے لَو لگاتا ہے اور اسی سے مدد مانگتا ہے، یہاں تک کہ معمولی افراد جو عام حالات میں دینی رجحان نہیں رکھتے وہ بھی اس مسئلہ سے الگ نہیں ہیں بلکہ وہ بھی شدید مشکلات یا لاعلاج بیماری کے وقت اس طرح کا روحانی نظریہ رکھتے ہیں۔ جادوگروں اور ریاضت کرنے والوں کے عجیب وغریب کاموں اور معجزہ میں کیا فرق ہے؟ معجزات ، خداداد طاقت کے بل بوتہ پر ہوتے ہیں۔ جبکہ جادوگری اور ان کے غیر معمولی کارنامے انسانی طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں، لہٰذا معجزات بہت ہی عظیم اور نامحدود ہوتے ہیں، جبکہ جادوگروں کے کارنامے محدود ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں : جادوگر فقط وہی کام انجام دے سکتے ہیں جن کی انھوں نے تمرین کی ہے، اور اس کام کے انجام دینے کے لئے کافی آمادگی رکھتے ہوں، اگر ان سے کو ئی دوسرا کام انجام دینے کے لئے کہا جائے تو وہ کبھی نہیں کرسکتے، اب تک آپ نے کسی ایسے جادوگر اور ریاضت کرنے والے کو نہیں دیکھا ہوگا کہ جو یہ کہتا ہوا نظر آئے کہ جو کچھ بھی تم
 
 
 
 
 
فرہنگ و تمدن پر تنقيد
 
وجوداورماہیت ”سوفسطائی“ یاوجود علم کے منکر سوال:فلسفہ کی دنیا میںقدیم زمانہ سے آج تک ،ہمیشہ ایسے افراد موجود تھے جو تمام چیزوں کو خیالی اورتصوراتی فرض کرکے کسی بھی حقیقت کے معتقد نہیں تھے ،ان افراد میں سے بعض حتی اپنے شک پر بھی شک کرتے ہوئے مطلق طورپر علم کے وجود کے منکر ہوئے ہیں ۔البتہ اس گروہ کو دنیائے فلسفہ میں” سوفسطائی“ کہتے ہیں ان کے دعوی کو باطل ثابت کرنے کے سلسلہ میں آپ سے ایک مختصر فلسفی اورعلمی جواب کا تقاضا ہے۔ جواب:ہم ایسے افراد کے مقابلہ میں قرار پائے ہیں جوسو فسطائیت کے گرویدہ ہوکر کہتے ہیں :ہمارے اورہمارے نظریہ کے علاوہ جس چیز کا بھی فرض کیا جائے حقیقت نہیں ہے بلکہ خیال کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اسی طرح کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس سے بالاتر قدم عصر حاضر کے تناظر میں مسلمانوں کا مستقبل جس موضوع کے سلسلہ میں مجھے آپ حضرات کی خدمت میں اپنے معروضات پیش کرناہیں وہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے سر انجام اور انکی عاقبت سے عبارت ہے۔ ہم آج کی اپنی گفتگو میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کا مستقبل کیا ہوگا ؟ انکی آنے والی تاریخ کس طرح رقم کی جائے گی ؟آیا عالم اسلام اورمسلمانوں کے مستقبل کے سلسلہ میں کوئی نظریہ دیا جا سکتا ہے کہ آئندہ کیا ہوگا ؟
 
 
 
پورتالستاد بزرگداشت شهداي گمنامباشگاه خبرنگاران جوانصفحه شخصي حميدرضا غريب رضاشهداي روحانيرهبريانديشه جاويدمرکز فقهي ائمه اطهار (ع)نکونامپايگاه اطلاع رساني استاد حسين انصاريانصفحه شخصي دکتر عصام العمادمرکز خدمات حوزه هاي علميهموسسه گفتگوي دينيحضرت آيت الله گيلانيدفتر حضرت آيت الله العظمي حاج سيد محمد حسيني شاهرودي حضرت آيت الله حاج شيخ مجتبي تهرانينور معرفتاستاد علوي سرشکي صحيفه سجاديهنمايشگاه قرآن کريم قمحوزه علميه آل البيتآدينه فومنهدايتپايگاه اطلاع رساني حاج آقا صديقيانجمن هاي اسلامي دانش آموزانراه و رسم طلبگيمنارهپايگاه اطلاع رساني فرهنگ و ارتباطات ديني